کمشنرہزارہ کے بعدٹی ایم اوایبٹ آبادکو بھی تاجروں کے خوشامدی ٹولے نے ہارپہنا کر اپنے ہاتھ میں کرلیا۔

ایبٹ آباد:نوتعینات ٹی ایم او نے بھی قبضہ مافیا سے یاری پال لی۔شہر بھر میں قبضہ مافیا کا راج آئے روز غیر قانونی تجاوزات سے شہر کنکریٹ میں تبدیل کوئی پوچھنے والا نہیں کمشنر ہزارہ سید ظہیر الاسلام بھی ماہ رمضان میں پختہ تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے کیا گیا وعدہ پورا نہ کر سکے عوامی حلقوں کا وزیراعظم پاکستان وزیراعلی کے پی کے سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

ذرائع کے مطابق ایبٹ آباد میں نوتعینات ہونیوالے ٹی ایم او وقاص شاہ کو بھی تاجروں کے خوشامدی ٹولے نے ہارپہنا کر اپنے ہاتھ میں کرلیاہے۔ایک طرف صوبائی حکومت نے عوام کے اوپر مہنگائی کا طوفان برپا کر کے ان کی مشکلات میں شدید اضافہ کر رکھا ہے اسی طرح سیاحت کے لحاظ سے مانے جانے والے شہر ایبٹ آباد جو پہاڑوں اور درختوں کی وجہ سے ایک مقام رکھتا ہے کو پچھلے کچھ عرصہ سے ایک مخصوص قسم کی مافیہ جو کہ شہر میں موجود سرکاری املاک پر قبضہ کر کے اپنے کاروبار چمکائے ہوئے ہے جو آئے روز شہر کے اردگرد موجود جنگلات میں درختوں کی کٹائی کرکے سرسبزوشاداب جملات کو کنکریٹ میں تبدیل کرنے میں مصروف عمل ہے اس مخصوص قبضہ مافیہ کا اعتراف سابق ڈی آئی جی ہزارہ محمد علی بابا خیل بھی کر چکے ہیں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایبٹ آباد شہر کو اگر بچانا ہے تو ایک مخصوص قبضہ مافیا گروپ جو کہ شہر کو آئے روز اپنی جاگیر سمجھ کر تباہ و برباد کر رہا ہے اسے لگام دینا ضروری ہوگی اس وقت ایبٹ آباد شہر کی حالت ایسی ہے کے بازاروں سے لے کر پہاڑوں تک تمام قبضہ مافیہ کے رحم و کرم پر ہے جو آئے رو شہر کو کنکریٹ میں تبدیل کر رہے ہیں بازار میں خریداری کے سلسلے میں آئی ہماری مائیں بہنیں پیدل تک نہیں چل سکتی اس کی بڑی وجہ بازار کے دونوں جانب پختہ تجاوزات کے ساتھ لائسنس یافتہ ریڑھی اور تھڑا مافیہ موجود ہے جہیں محکمہ ٹی ایم اے اور محکمہ کنٹونمنٹ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔

پختہ تجاوزات سمیت عارضی تجاوزات قیمت میں یہ دونوں محکمے ماہانہ لاکھوں روپے رشوت کے طور پر اپنی جیبوں میں ڈالتے ہیں غیر قانونی تجاوزات کا سلسلہ روکنے کے بجائے روز بڑھتا جارہا ہے اور شہر کی بچی کچی سڑکوں پر بھی یہ مافیہ برجمان ہو رہی ہیں تجاوزات کا یہ عالم ہے کہ خریداری کے لیے آئے لوگوں کو اپنی گاڑی کھڑی کرنے کے لئے جگہ تک میسر نہیں عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اس مافیا کے خلاف متعدد بار متعلقہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آپریشن کیے گئے مگر سب کے سب بے سود رہیں گزشتہ ماہ رمضان میں تجاوزات کے خلاف کمشنر ہزارہ سید ظہیر الاسلام کی سربراہی میں تمام محکموں کے افسران نے آپریشن کیا جس کے ذریعے شہر کے مختلف علاقوں لنک روڈ اور اس سے ملحقہ گلی محلوں سے تجاوزات کو ختم کیا گیا اسی موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کمشنر ہزارہ سید ظہیر الاسلام نے ماہ رمضان کے بعد شہر میں پختہ تجاوزات مافیا پر ہاتھ ڈالنے کا کہا تھا مگر افسوس آج تک یہ تجاوزات ختم نہ کی جاسکی اور آئے دن یہی تجاوزات بڑھتی جا رہی ہیں اس آپریشن میں ختم کی جانے والی عارضی تجاوزات بھی پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ ان سڑکوں پر پر جمع نہیں اسی طرح اگر پہاڑوں کی بات کی جائے تو انگریز دور میں نکاسی آپ کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے پہاڑوں پر چھوڑی گی شملاتوں پر بھی اس قبضہ مافیا نے ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیے اور آئے روز پہاڑوں پر موجود درختوں کی کٹائی کرکے پہاڑوں کو مکمل طور پر کنکریٹ میں تبدیل کردیا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ ذرا سی بارش ہوتے ہیں ایبٹ آباد شہر بھر تالاب کا منظر پیش کرنے لگتا ہے جس سے عوام مزید مشکلات سے دوچار ہو رہی ہے تجاوزات سے پاک پاکستان کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان نے مکمل طور پر تجاوزات کے خاتمے کے لیے احکامات جاری کر رکھے ہیں مگر افسوس ملک میں موجود کرپٹ افسران عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑا کر ان احکامات کی کھلی تذلیل میں مصروف ہیں عوامی حلقوں نے تبدیلی سرکار کے علمبردار وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلی کے پی کے محمود خان مطالبہ ہے کہ خدارا فلفور شہر سے ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کرکے شہر کو تجاوزات سے پاک کیا جائے

Facebook Comments