ہمارا فیس بک پیج

شملہ پہاڑی پر سیاحوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ جاری۔پارکنگ فیس سو روپے وصول کی جانے لگی۔

ایبٹ آباد(وائس آف ہزارہ/سردار فیضان سے)سیاحت کا فروغ خطرے میں پڑھ گیا ضلع انتظامیہ کی نااہلی سیاحتی مقام شملہ اہل میں سیاحوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ شروع سیاح سراپا احتجاج وزیراعلی اور سپیکر صوبائی اسمبلی فوری نوٹس لیں اس ضمن میں زرائع نے ہے کروناوائرس کی وباء سے تمام تر سیاحتی مقامات بند تھے حکومت کی طرف سے چند روز قبل سیاحتی مقامات کھلنے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد پورے پاکستان سے بڑی تعداد میں ہزارہ ڈویژن کے سیاحتی مقامات سمیت شملہ اہل پہنچ آئے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ دیکھ کر سیاحوں کو مقامی افراد کی جانب سے لوٹا جارہا ہے کہیں پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرنے کے 100 روپے وصول کیے جاتے ہیں تو کہیں گھوڑے سواری کے پانچ سو روپے لیے جا رہے ہیں زرائع کے مطابق سیاحتی مقام شملہ اہل کو ڈسٹرکٹ کونسل سے لے کر ٹی ایم اے کے حوالے کردیاگیا شملہ ہل ٹی ایم کے حوالے ہوتے ہی شملہ اہل بھی مقامی لوگوں کے لیے نو گو ایریا بن گیا پہلے پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرنے کے کوئی پیسے نہیں ہوتے تھے اب گاڑی کھڑی کرنے کے بھی پیسے لیے جانے لگے۔

اسی طرح پہلے سیاحتی مقام شملہ اہل پر ہر شہری باآسانی سے گھوم سکتا تھا لیکن اب ٹی ایم اے اہلکار تمام شہریوں کو تنگ کرنے لگے اور تو اور وہاں موجود پارکنگ اور کنٹین کا ٹھیکے بھی اپنے من پسند افراد سمیت اٹک پار کے لوگوں میں بانٹے جا رہے ہیں جس سے مقامی بے روزگار نوجوانوں نظر انداز کر کے انکی مشکلات میں مزید اضافہ کیا جا رہا جس پر شہری سراپا احتجاج بن چکے ہیں اس حوالے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ محکمہ ٹی ایم اے نے پہلے ایبٹ آباد شہر کی میں منتھیلوں کے ایوز تجاوزات کا گھڑ بنا رکھا ہے شہر کا بازار ہو یا شہر کی عیدگاہ روڈ وہاں لگائے جانے والے کیبنوں میں بھی مقامی افراد کو نظر انداز کیا گیا مقامی افراد کا مزید کہنا تھا کہ وہ وقت اب دور نہیں کہ شملہ اہل جیسے پرسکوں سیاحتی مقام پر بھی تجاوزات مافیا قابض ہو گی کیوں کہ محمکہ ٹی ایم اے کے اہلکاروں کو صرف پیسے سے پیار ہے اہلیان ایبٹ آباد نے وزیراعلی کے پی کے سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی سے مطالبہ کیا ہے کہ خداراہ محکمہ ٹی ایم اے کے افسران اور اہلکاروں کا قبلہ درست کیا جائے تاکہ ایبٹ آباد شہر کی طرح شملہ ہل کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!