حساس ادارے کے دفترکے باہراہلکارکوفائرنگ کرکے زخمی کرنیوالے ملزمان حاجی نوازخان نے بیٹے سمیت عبوری ضمانت کروالی۔دوگرفتار۔

ایبٹ آباد:حساس ادارے کے دفترکے باہراہلکارکوفائرنگ کرکے زخمی کرنیوالے دوملزمان گرفتار۔دو نے عدالت سے عبوری ضمانتیں کروالیں۔ اس ضمن میں ایبٹ آباد پولیس کی جانب سے جاری کی جانیوالی پریس ریلیز کے مطابق ہفتہ کی رات گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نمبر۱ کے قریب واقع حساس ادارے کے دفتر کے باہر دو موٹرسائیکل سواروں نے اندھادھند فائرنگ کرکے انٹیلی جنس بیورو کے اے ایس آئی عبدالقادرشاہ کو گولیاں ماردیں۔ جبکہ متعدد گولیاں حساس ادار ے کے حفاظتی گیٹ کے آرپار ہوگئیں۔ حملے کے بعد چاروں ملزمان فرار ہوگئے۔ واقع کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔

حملے میں زخمی ہونیوالے اے ایس آئی عبدالقادرشاہ نے پولیس کو بیان دیاکہ کالعدم مذہبی تنظیم کے رہنماء حاجی نواز خان جدون، ان کے بیٹے حسنین معاویہ، محمداقبال ولدمحمدایوب سکنہ بانڈہ برج اور توصیف ولدفضل الرحمن سکنہ بانڈہ علی خان نے میرے اوپر رات دس بجے اس وقت حملہ کیاجب میں حساس ادارے کے مین گیٹ سے باہرنکل رہا تھا۔ ملزمان نے اندھادھند فائرنگ شروع کردی۔ پولیس کے مطابق اے ایس آئی عبدالقادرشاہ جوکہ کڑک میراایبٹ آباد کے رہائشی ہیں، کی رپورٹ پر حاجی نوازخان جدون، حسنین معاویہ، محمداقبال اور توصیف کیخلاف تھانہ کینٹ میں ایف آئی آر درج کرکے فوری کارروائی کرتے ہوئے محمد اقبال اور توصیف کو دوران ناکہ بندی گرفتار کرلیاگیا۔

جبکہ پیر کے روز حاجی نوازخان جدون اوران کے بیٹے حسنین معاویہ نے گرفتاری سے بچنے کیلئے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے عبوری ضمانت کروالی۔ حساس ادارے کے دفتر پر حملے کے بعد تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کردیاگیاہے۔ تمام حساس ادارے کیس کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان محمد اقبال اور توصیف نے دوران تفتیش اے ایس آئی عبدالقادرشاہ پر حملے کا اعتراف بھی کرلیاہے۔ملزمان کو منگل کے روز ایک روزہ جسمانی ریمانڈ کے ختم ہونے پر عدالت میں پیش کرکے مزید ریمانڈ لیا جائے گا۔

Facebook Comments