ہم میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ پاکستان میں لیبیا اور عراق جیسے حالات ہوں: واحدسراج۔

ایبٹ آباد:ماہر تعلیم واحد سراج نے معاشرے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بین المذاہب آہنگی کو پروان چڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک دوسرے کے عقائد کا احترام ہی خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔ ماڈرن ایج بوائز کالج ایبٹ آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کی علامت کے طور پر وجود میں آیا۔قوم کا اتحاد پارہ پارہ کرنے کی سازشیں کرنے والی قوتیں آج پسپا ہورہی ہیں اور پاکستان بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی کی تقریب میں پاسٹر رفیق جاوید، پاسٹر مائیکل، پاسٹر سلیم،پاسٹر قیصر،پاسٹر شبہازاور پاسٹر عاشر عدنان سمیت ماڈرن ایج کی معاون پرنسپل سمیرا واحد، ہزارہ کے نامور شعرا احمد حسین مجاہد، امان اللہ خان اور دیگر مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔قبل ازیں پاسٹر رفیق جاوید، پاسٹر مائیکل، پاسٹر سلیم،پاسٹر قیصر اور پاسٹر عاشر عدنان نے تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اختلافِ رائے کے احترام پر زور دیا اور کہا کہ ایک ہی ملک میں رہنے والے لوگ اگر اپنے ہر قسم کے مذہبی،گروہی، لسانی اور علاقائی اختلافات ایک طرف رکھ کر انسانی بنیادوں پر پاکستان کی ترقی کے لیے کام کریں تو ریاست کو خوشحالی سے ہمکنار کیا جاسکتا ہے۔ تقریب میں احمدحسین مجاہد اور امان اللہ خان نے ’امن‘ کے موضوع پر نظمیں بھی پیش کیں۔

دریں اثنا ماڈرن ایج کے پرنسپل واحد سراج نے اپنے خطاب میں کہاکہ آج کی تقریب میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ صرف ایک ہی نکتے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں اور وہ ہے”پاکستان“۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی سیاست بے رحم ہوتی ہے۔ اس میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ انسانو ں کو انسانوں اور مذاہب کو مذاہب سے لڑایا جار ہا ہے بلکہ صرف ذاتی مفادات کو مقدم رکھا جاتا ہے حالانکہ دنیا کو اس وقت امن کی ضرورت ہے۔ واحد سراج نے مزید کہا کہ ایک وقت تھا کہ پاکستان کی گلیوں کوچوں میں بم پھٹ رہے تھے اور لوگ مسلک، علاقائیت اور صوبائیت کے نام پر دست و گریباں تھے مگر اب حالات کافی تبدیل ہوچکے ہیں اور امن کی علم بردار قوتیں فتح یاب ہورہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور برداشت کرنے میں ہی شہر اور ملک کا مفاد پوشیدہ ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ پاکستان میں لیبیا اور عراق جیسے حالات ہوں۔واحد سراج نے تقریب کے شرکا سے اپیل کی کہ وہ ان قوتوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے امن اور محبت کو فروغ دیں جو پاکستان کو دو لخت کرنا چاہتی ہیں۔تقریب کے اختتام پرملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

Facebook Comments