ہمارا فیس بک پیج

میٹرک امتحان کے بعد کیا کریں، آرٹس میں داخلہ لیں یا سائنس میں؟؟۔۔۔ پڑھائی جاری رکھیں یا کوئی ہنر سیکھیں؟؟

تحریر:(عباد الرحمن، معلم گورنمنٹ ہائی سکول اوگی)
چند گذارشات::
اکثر طلبہ کرام اس بارے میں فکر مند رہتے ہیں، اور رائے طلب کرتے ہیں، ذیل میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے چند اہم گذارشات پیش کی جاتی ہیں۔

سب سے پہلے یہ بات سمجھ لیں، کہ میٹرک تعلیمی سلسلے کا انجام نھیں، بلکہ آغاز ہے، آغاز میں کوئی طالب علم اس قابل نھیں ہوتا، کہ وہ سب کچھ سیکھ لیں، جان لیں، اور مہارت تامہ پیدا کر لیں، بلکہ میٹرک کا مقصد بنیادی باتوں، اصولوں، قواعد وضوابط کو جاننا، تعلیمی ماحول سے شناسائی حاصل کرنا اور بنیادی قابلیت کے ساتھ مضامین سے واقفیت حاصل کرنا ہوتا ہے، وہ تقریبا تمام طلبہ کرام حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، اگر آپ بنیادی واقفیت حاصل کر چکے ہیں، تو مایوس ہونے اور گھبرانے کی ضرورت نھیں، آگے بڑھیئے، ہمت کیجیے مزید تعلیمی قابلیت پیدا کیجیے اور مہارت حاصل کرتے ہوئے درج ذیل باتوں کو ذھن نشین کیجیے۔۔۔۔

بعض طلبہ سمجھتے ہیں،کہ شاید آرٹس میں داخلہ لینا کار عبث ہے، اور اسکا فائدہ نھیں، آرٹس کے طلبہ عموما احساس کم تری کا شکار ہوتے ہیں اور مایوس نظر آتے ہیں، سکول جاتے ہوئے ان کا دل نہیں لگتا، نہ پڑھائی کی طرف شوق و رغبت رکھتے ہیں۔ یہ بالکل درست نھیں، دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں آرٹس کا شعبہ قائم ہوتا ہے، کالجز میں بھی آرٹس کے طلبہ کے لیے الگ شعبہ جات اور ٹیچرز ہوتے ہیں، اگر ارٹس میں داخلہ فضول ہوتا یا اس کی خاص اہمیت نہ ہوتی تو کیوں کالجز اور یونیورسٹیوں میں یہ شعبہ قائم ہوتا، اور ھزاروں ٹیچر اس شعبہ سے کیوں وابستہ ہوتے؟؟ پاکستان میں سائنس، کمپیوٹر، میڈیکل کے بنسبت آرٹس کے طلبہ کرام اچھی پوسٹوں پر ہیں اور یہاں مواقع زیادہ ہیں، لھذا اگر آپ نے آرٹس میں داخلہ لیا ہے، آپ کو شوق اور دلچسپی ہے، تو اس فیلڈ میں بھی کامیاب ہونے کے کافی مواقع ہیں، صرف اور صرف مہارت اور قابلیت شرط ہے، آرٹس کے طلبہ قابلیت اور مہارت کے بعد، ٹیچنگ، پولیٹیکل، عدلیہ، زراعت، لائیبریرین جیسے شعبہ جات کے ساتھ کالجز اور یونیورسٹیز میں اہم پوسٹوں تک جا کر خدمات سر انجام دے سکتے ہیں، اگر فیلڈ میں مہارت اور قابلیت ہو، چاہے وہ سائنس کا فیلڈ ہو یا آرٹس کا، مواقع بھت ہیں، مواقع ڈھونڈنے کی ضرورت نھیں بلکہ مواقع انسان کی تلاش میں رہتے ہیں، لیکن صرف ایک شرط ہے۔۔ اگر فیلڈ میں مہارت و قابلیت ہو۔۔

دلچسپی کے شعبہ اور مضامین کو اختیار کریں: آپ ہرگز کسی کے نقش قدم پر چلنے یا نقل اتارنے کی کوشش مت کریں، کہ فلاں میڈیکل میں گیا ہے تو میں بھی میڈیکل میں جاؤں گا، فلاں نے کمپیوٹر سائنس میں داخلہ لیا ہے تو میں بھی لوں گا یا مجھے بھی لینا چاہئیے، یا فلاں فیلڈ میں ” سکوپ ” اور مواقع زیادہ ہیں تو اس میں جانا چاہئیے۔۔۔۔ سب سے پہلے ترجیحی شعبہ اور دلچسپی کے شعبہ اور مضامین کو دیکھیں جس شعبہ میں آپ کو دلچسپی ہو، اور جن مضامین سے دلچسپی ہوں، ان ہی کو اختیار کریں، ٹیچرز یا والدین کے دباؤ میں آکر ہر گز فیصلہ مت کیجیے، کیوں کہ پڑھنا آپ ہی نے ہے، امتحان آپ ہی نے دینا ہے، ٹیچرز یا والدین نے نھیں۔۔۔ مثلا۔۔ اگر آپ ٹیچرز یا والدین کے کہنے پر تاریخ کے مضمون کو اختیار کرکے داخلہ لیتے ہیں اور آپ کو تاریخ پڑھنے کا شوق اور اس سے دلچسپی نھیں، یا تو آپ اس مضمون میں فیل ہوں گے،یا انتہائی کم نمبرز سے پاس ہوں گے آپ قابلیت اور مہارت حاصل ہی نہیں کرسکتے، جس مضمون سے انسان کو دلچسپی ہو اسی مضمون میں آگے بڑھنے، مہارت حاصل کرنے کے چانسز اسی فیصد زیادہ ہوتے ہیں، مثلا بعض طلبہ شعر وشاعری کے شوقین ہوتے ہیں ان کو سینکڑوں اشعار زبانی یاد ہوتے ہیں، اور وہ چند منٹوں میں کئی اشعار یاد کرلیتے ہیں، اس کے مقابلے میں وہی طلبہ اردو یا کمیسٹری کے جواب یاد کرنے میں مسلسل کوشش، محنت کے باجود ناکام نظر آتے ہیں۔۔۔ کیوں؟؟ اس لیے کہ وہاں دلچسپی اور شوق ہے یہاں نہیں۔۔۔۔

اسی طرح اگر آپ کو شوق آرٹس پڑھنے کا ہے اور آپ کو یقین ہے کہ آپ آرٹس میں قابلیت اور مہارت حاصل کرسکتے ہیں، اس کے باوجود آپ سائنس، میڈیکل، کمپیوٹر سائنس میں داخلہ لیتے ہیں، تو یہاں آپ ساٹھ فیصد قابلیت حاصل کرلیں گے یا ستر فیصد۔۔۔۔ جبکہ اتنی ہی محنت سے آپ آرٹس میں نویں، پچانویں فیصد قابلیت اور مہارت حاصل کر سکتے ہیں، جو کہ بہتر ہے، لھذا دلچسپی کے شعبہ اور مضامین کو اختیار کریں، مہارت تامہ اور قابلیت پیدا کریں۔

کچھ تبدیلی لائیں اور روز مرہ کی بنیاد پر کام کریں، آپ جانتے ہیں کہ آج ہم جس ترقی کے دور سے گزر رہے ہیں، کسی زمانہ میں یہ ترقی بالکل نھیں تھی اور کسی نے اس بارے میں سوچا بھی نھیں تھا، لیکن روز بروز کچھ نہ کچھ تبدیلی اور ترقی کی وجہ سے آج دنیا یہاں تک پہنچی۔۔ اور اسی طرح روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سے ترقی کے وہ منازل طے ہوں گے جس کے بارے میں ہم سوچ بھی نھیں سکتے۔۔۔ اسی طرح اگر طالب علم مثبت تبدیلی کی طرف بڑھ کر روز کچھ نہ کچھ تبدیل لانے کی کوشش کریں اور اس کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ٹائم مختص کریں،تو چند ماہ بعد وہی طالب علم ایک منفرد، قابل، محنتی طالب علم بن سکتا ہے۔۔۔ اس کو مثال سے سمجھ لیجیے۔۔۔ اگر کوئی طالب علم انگلش میں کمزور ہے تو دو ماہ مسلسل ایک گھنٹہ کی محنت سے وہی طالب علم انگلش میں ماہر اور قابل بن سکتا ہے۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ گھر میں جب ہم پشتو یا ہندکو بولتے ہیں، ہم تقریبا تین سو سے چہار سو کے قریب الفاظ استعمال کرتے ہیں، پشتو بولتے ہوئے جو الفاظ آج ہم نے استعمال کیے ہیں، کچھ تبدیلی کے ساتھ کل بھی وہی الفاظ استعمال کریں گے، اور وہی باتیں کریں گے، ایسا تو نھیں کہ جو الفاظ آج ہم نے استعمال کیے ہیں وہ ختم کرکے کل ہم اور۔۔۔ اور، پرسوں اور الفاظ بولیں گے۔۔۔۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی شخص کو پشتو کے تین سو سے چہار سو کے درمیان الفاظ آتے ہو، وہ بآسانی پشتو بول سکتا ہے اور اسے پشتو زبان کا ماھر سمجھا جا سکتا ہے۔۔۔ یہی حال انگریزی زبان کا ہے اگر آپ کو انگریزی زبان کے تین سو سے چہار سو تک الفاظ یاد ہوں اور ان کو استعمال کرنے کا طریقہ آتا ہو، تو آپ انگریزی زبان کے ماہر سمجھے جائیں گے۔۔۔ اگر آپ روزانہ کی بنیاد پر ایک گھنٹہ میں آٹھ تا دس الفاظ سیکھ جاتے ہیں اور ان کو استعمال کرنے کا طریقہ جان لیتے ہیں، تو صرف دو ماہ میں روزانہ کی بنیاد پر (یعنی صرف ساٹھ گھنٹوں میں) آپ انگریزی بولنے، سمجھنے اور بات کرنے میں ماہر ہو جائیں گے۔۔۔ یہی حال تمام مضامین کا ہے۔۔ عادت میں تبدیلی لائیں، وقت نکالیں، ٹائم ٹیبل بناکر کام کرنے کی عادت ڈالیں اپنے اندر مثبت تبدیلی لائیں۔۔۔ آگے بڑھتے ہوئے تعلیمی وعلمی قابلیت حاصل کیجیے۔۔۔

موجودہ دور میں تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے ساتھ بھی ہنر سیکھنا، سکلز سیکھنا، کمپیوٹر سیکھنا انتہائی اہم ہے۔۔۔۔ اگر آپ کے پاس تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع نھیں یا کوئی مجبوری ہے، پھر آپ کوئی کمپیوٹر کورس اور سکلز سیکھ کر، چند ماہ محنت کرکے آرام وسکون سے زندگی بسر کرسکتے ہیں، کمپیوٹر سیکھنا شروع کیجیے کوئی سکل سیکھیے اور اس سے فائدہ اٹھا کر اپنے لیے آسانیاں پیدا کیجیے۔۔۔ کیونکہ موجودہ اور خاص کر آنے والا وقت ہی کمپیوٹر کا ہے۔۔۔۔ دعاؤں میں یاد رکھیں۔۔۔۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو!!

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!