سمندرکٹھہ جھیل کی دیوارٹوٹ گئی۔ سیاحوں کی آمد جاری۔ جانی نقصان کا خطرہ۔

ایبٹ آباد(وائس آف ہزارہ)ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد اور ضلعی انتظامی افسران کی نااہلی مون سون کی بارشوں سے سمندر کٹھا جھیل کی دیوار ٹوٹنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقع کے پیشِ نظر لگائے جانے والے دفعہ 144 پر عمل درآمد سیاحوں نے اڑا دیے گئے جھیل پر سیاحوں کا رش جاری،اس ضمن میں میں زرائع نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کے جانب سے مون سون کی بارشوں کے باعث جھیل کی دیوار میں ٹوٹنے کے خطرہ سے جھیل پر سیاحوں کی آمد پر پابندی عائد کرنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر رکھا ہے مگر افسوس یہ دفعہ 144 صرف اور صرف کاغذات تک محدود ہے کوئی بھی انتظامی افسر یہ محکمہ پولیس کے اہلکار دفعہ 144 پر عمل درآمد کروانے میں مکمل طور پر ناکام دیکھائی دے رہے ہیں او بندی کے باوجود سمندر کٹھہ جھیل میں سیاحوں کی بڑی تعداد روز جوق در جوق موجود ہوتی ہے یہی نہیں بچی اور خواتین بھی اس جھیل کی سیر کے لیے وہاں موجود ہوتے ہیں جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے اہلیان سمندر کٹھا نے ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ خدارا سمندر کٹھہ جھیل پر لگائے جانے والے دفع 144 پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور محکمہ جی ٹی اے کو احکامات جاری کیے جائیں کہ سمندر کٹھہ جھیل پر آنے والے سیاحوں کو بڑا گلی کے مقام پر روکا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

نیوز ہزارہ

error: Content is protected !!