وہی ماحول وہی الزامات تاریخ کے خود کو دہرا دیا: واشنگٹن پوسٹ

پاکستان کو ایک اور غیر شفاف انتخابات کا سامنا رہا، عوام کی اکثریت کو اندازہ ہے کہ کیا نتائج برآمد ہو نیوالے ہیں: بلوم برگ۔
عمران خان بیلٹ پر موجود نہیں ن لیگ کے جیتنے کے امکانات، تیسرا فریق 35 سالہ بلاول بھٹوزرداری ہے: دی انڈیپنڈنٹ۔
پھر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہر بار کی طرح امن وامان وجہ قرار: بی بی سی اور دیگر عالمی میڈیا کے تبصرے۔
اسلام آباد(وائس آف ہزارہ) پاکستان 12 ویں عام انتخابات میں حق رائے دہی کا عمل مکمل ہو گیا ہے جمعرات کو قومی اسمبلی اور چار صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے انتخاب کیلئے پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوئی اور بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ پاکستان میں تقریبا 13 کروڑ رجسٹر ووٹرز ہیں تاہم جمعرات کو ٹرن آؤٹ کم رہا پاکستان 12 ویں عام انتخابات کے بارے میں بین الاقوامی میڈیا نے اہم تبصرے کیے ہیں۔ برطانوی جریدے دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان بیلٹ پیپر پر موجود نہیں ان کی جماعت آزاد امیدواروں کی حمایت کرنے پر مجبور ہے۔ اس صورت حال میں مسلم لیگ ن کے جیتنے کے امکانات ہیں۔ اس دوڑ میں شامل تیسرے فریق 35 سالہ بلاول بھٹوزرداری ہیں جو سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے بیٹے ہیں۔ معروف امریکی جریدے ٹائم نے لکھا ہے کارل مارکس نے کہا تھا کہ پہلے تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور پھر دھوکا دیتی ہے۔ پاکستان کے معاملے میں تاریخ نے اپنے آپ کو عجیب انداز سے دہرایا ہے۔ یہاں المیے کے پہلو بہ پہلو دھوکا بھی ہے۔ جریدہ مزید لکھتا ہے کہ سب کو لیولڈ پلینگ فیلڈ نہیں دی جارہی۔ معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ۔ گٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ کارکنوں کی گرفتاری اور عدالت سے سزائیں سنائے جانے سے پی ٹی آئی کے حامیوں کی خاصی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ مجموعی طور پر لوگوں میں الیکشن کے حوالے سے بہت زیادہ جوش و خروش نہیں۔ پاکستانیوں کی اکثریت کو اچھی طرح معلوم ہے، اندازہ ہے کہ کیا نتائج برآمد ہونے ہیں۔ بلوم برگ نے پاکستانی انتخابات کو رپورٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان میں جمعرات کو ہونے والے انتخابات کے دوران ملک بھر میں موبائل سروس بند کر دی گئی۔ بلوم برگ کے مطابق متنازع الیکشن میں افراتفری سے قبل یہ اقدام امن وامان کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ بی بی سی نے پاکستانی انتخابات پر مرتب رپورٹ میں کہا کہ: انتخابات میں پانچ ہزار سے زیادہ امیدوار شریک ہیں، جن میں سے 313 خواتین بھی شامل ہیں۔ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو بڑی جماعتیں تو قرار دیا ہے لیکن اسی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کو ووٹ دینا مشکل بنا دیا گیا کیونکہ اسے اپنے انتخابی نشان بلے کے استعمال سے روک دیا گیا ہے۔ انڈیا ٹوڈے نے پاکستان میں عام انتخابات پر رپورٹ کیا کہ پاکستان میں انتخابات کے دوران موبائل سروس کو بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سکیورٹی بتائی گئی ہے۔ انڈیا ٹوڈیکے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے حامیوں کو کہا ہے کہ وہ نتائج کے انتظار تک پولنگ سٹیشنز کے باہر انتظار کریں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

نیوز ہزارہ

error: Content is protected !!