بغاوت پر اکسانے کے الزام میں پاک فوج کے سابق افسروں کو آرمی ایکٹ کے تحت قید بامشقت کی سزائیں۔

عادل فاروق راجہ کو 14 سال اور رضا مہدی کو 12 سال قید با مشقت کی سزاء منقولہ غیر منقولہ جائیدادیں ضبط شناختی کارڈ منسوخ۔
دونوں کو بھگوڑے قرار دیا جا چکا، کورٹ مارشل کے بعد اب وطن واپس لانے کے لئے بذریعہ انٹر پول کاروائی کی جائے گی۔
راولپنڈی(وائس آف ہزارہ)پاک فوج نے دو ریٹائرڈ افسران میجر ریٹائرڈ عادل فاروق راجہ اور کیپٹن ریٹائرڈ حیدر رضا مہدی کو کورٹ مارشل کے ذریعے سزاسنادی اور رینک بھی ضبط کر لئے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 2 ریٹائر ڈافسران عادل فاروق راجہ اور حیدر رضا مہدی کو کورٹ مارشل کے ذریعے سزا سنائی گئی۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ میجر ریٹائرڈ عادل فاروق راجہ کو 14 سال قید با مشقت کی سزاسنائی گئی جبکہ کیپٹن ریٹائر ڈ حیدررضا مہدی کو 12 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں ریٹائرڈ افسران کو پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) کے ذریعے فوجی اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے کے جرم اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات کی خلاف ورزی کرنے اور ریاست کے تحفظ اور مفاد کے برخلاف کام کرنے کے الزامات کے تحت سزا سنائی گئی۔ عدالت نے 7 اور 19اکتوبر 2023 کو دونوں ریٹائرڈ افسران کو سزائیں سنائیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سزا کے تحت 21 نومبر 2023 سے دونوں ریٹائرڈ افسران کے رینک ضبط کر لئے گئے ہیں۔ ملزم عادل راجہ کے خلاف 7 مئی 2023 کو تھا نہ جنوبی لاہور کینٹ میں مقدمہ درج کیا گیا۔ 18 جون 2023 کو عادل راجہ کے خلاف باقاعدہ عدالتی کارروائی کی گئی۔ عادل راجہ کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران عدالت کی جانب سے پہلا سمن 19 جون 2023 کو جاری کیا گیا۔ عادل راجہ کو سمن کی وصولی سفارتی ذرائع کے ذریعے کرائی گئی۔ اس کے علاوہ دوسرے ملزم حیدر مہدی کے خلاف بھی 7 مئی 2023 کو تھا نہ جنوبی لاہور کینٹ میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ملزم حیدر مہدی کو 26 جون 2023 کو پہلا سمن جاری کیا گیا۔ سمن بذریعہ کینیڈا ڈاک رجسٹر ڈ میل کے ذریعے بھیجا گیا جس میں عدالت نے ملزم حیدر مہدی کو 27 جولائی 2023 کو طلب کیا مگر سمن وصول کئے بغیر واپس بھیج دیا گیا۔ اس کے علاوہ دونوں ملزمان کی ذاتی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں بھی ضبط کر لی گئیں تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ملزمان کے بینک اکانٹس منجمد، پاسپورٹ اور CNIC منسوخ اور دونوں کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں بھی ڈال دیا گیا۔ دونوں سابق فوجی افسران بیرون ملک فرار ہیں اور انھیں بھگوڑے قرار دیا جا چکا ہے دونوں کے کورٹ مارشل کے بعد اب ان کو وطن واپس لانے کیلیے انٹر پول کے ذریعے کاروائی کی جائے گی اور حکومت پاکستان سفارتی ذرائع سے ان ممالک کی حکومتوں کو خط بھی لکھے گی جہاں یہ اس وقت مقیم ہیں۔


یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

نیوز ہزارہ

error: Content is protected !!