عوام پر ایک اور ستم: گیس کی قیمتوں میں اضافہ جولائی سے لاگو۔

57 فیصد گھر یلو صارفین کا ٹیرف نہیں بڑھایا گیا اضافہ نہ کرتے تو اس سال بھی 1400 ارب کا نقصان ہوتا، محمد علی۔
آرایل این جی کی قیمت لوکل گیس سے دگنی ہے نقصان رکنے سے ہی خسارے کم ہونگے،
ہمیشہ عوامی مفاد کوترجیح دی گیس کمپنیوں میں اصلاحات کیلئے لانگ ٹرم کام کرنا پڑے گا، اس پر منتخب حکومت فیصلہ کریگی، نگران وزیر توانائی۔
اسلام آباد (وائس آف ہزارہ) نگراں وزیر توانائی بجلی و پٹرولیم محمد علی نے کہا ہے کہ گیس کی قیمتوں کے ملکی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں، گیس قیمتوں میں اضافے کا اطلاق جولائی سے ہوگا جولائی اگست ستمبر، اکتوبر کو بھی موجودہ ٹیرف میں شامل کیا گیا ہے، گیس کمپنیوں میں اصلاحات کیلئے لانگ ٹرم کام کرنا پڑے گا، نگراں سیٹ اپ کے پاس اتنا وقت نہیں، اس پر منتخب حکومت فیصلہ کرے گی، آنے والے وقتوں میں گیس سیکٹر میں پاکستان کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، نقصان رکے گا تو اداروں میں جو خسارے ہیں وہ کم ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نگران وفاقی وزیراطلاعات امرتضی سونگی کے ہمراہ پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نگراں وزیرمحمد علی نے کہا کہ پاکستان میں گیس کی قیمت حکومت دیتی ہے، اوگرا کو اس سال 697 بلین روپے چاہیں تا کہ گیس خریدی جاسکے۔ نگراں وزیر توانائی محمد علی نے کہا کہ ہزار ارب روپے سے کم کی گیس اور آئل نکال رہے ہیں، اگر گیس کی قیمت نہ بڑھتی تو 400 ارب روپے کا نقصان ہوتا، 10 سال سے پاکستان میں گیس کے ذخائر کم ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہزار ارب روپے کا پیٹرول اور گیس کم نکال رہے ہیں، ملک کا نقصان ختم کرنے کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافہ ضروری تھا، تندوروں کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے، نگران وزیر توانائی محمدعلی نے کہا ہے کہ 57 فیصد گھر یلو صارفین کا ٹیرف نہیں بڑھایا گیا ہے، آج جو آئل اور گیس کی قیمت نکال رہے ہیں وہ اس سال سے بہت کم ہے، تیل اور گیس کم نکل رہی ہے اس لئے آرایل این جی برآمد کرنا پڑتی ہے، آرایل این جی گیس کی قیمت لوکل گیس سے دگنی ہے، 14-2013 میں گیس کی قیمت میں 18 ارب کا نقصان سالانہ تھا یوریا کھا د صنعت کیلئے 45 ارب روپے سبسڈی ہوگی وفاقی وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیر توانائی محمد علی نے کہا کہ گیس کی قیمتوں کے حوالیسے عوام کو آگاہی دینا چاہتے ہیں، گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنامشکل فیصلہ ہے۔


یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

نیوز ہزارہ

error: Content is protected !!