ہمارا فیس بک پیج

ایبٹ آباد پاکستان کے مہنگے ترین شہروں میں پہلے نمبر پرآگیا۔

ایبٹ آباد(وائس آف ہزارہ)ضلعی انتظامیہ کی غفلت سے ماہ رمضان المبارک میں ہوشربا مہنگائی نے شہریوں کے اوسان خطا کر دیئے،عید الفطر کی آمد پر بھی خودساختہ مہنگائی پر ضلعی انتظامیہ قابو کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی،اشیاء خوردنوش کے علاوہ کپڑے جوتوں کے علاوہ دیگر ضرورت کی اشیاء کی خریداری کے لئے غریب عوام کی قوت خرید جواب دے چکی ہے،جس سے ایبٹ آباد کا شمار ملک کے مہنگے شہروں میں صف اول پے ہوگیا ہے۔ذرائع کے مطابق ماہ رمضان المبارک میں انصاف سستا بازار کا اقدام حکومت کا اچھا اقدام ہے تاہم خامیوں کو نظر انداز کرنے کے باعث غریب عوام کو خاطر خواہ فوائد نہیں مل سکے ہیں،انصاف سستا بازار میں سرکاری نرخوں پر گوشت اور مرغی کی دستیابی کو ممکن نہیں بنایا جاسکا ہے، آٹا،چینی کی وافر مقدار بھی موجود نہیں،اور ضروریات زندگی کی دوسری اشیاء کپڑے جوتوں کے سٹال تک نہیں ہیں انصاف سستا بازار میں مرغی اور گوشت کے کیبن بھی بند پڑے ہیں،شہر میں بھی قصابوں نے 350 روپے فی کلو کے بجائے 450ہڈی والا اور بوٹی 7سو اور 750میں فروخت کا سلسلہ جا ری رکھا ہوا ہے، اسی طرح چھوٹا گوشت جو سرکاری نرخ کے مطابق 6سو روپے کلو ہے 12سو روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے اور مرغی کا بھی وزن کے بجائے گوشت فروخت ہو رہا ہے،جس کے من مانے نرخ وصول کئے جاتے ہیں۔

ماہ مبارک کے دوسرے عشرہ کے اختتام اور عید الفطر کی آمد کے موقع پر غریب والدین بچوں کی ضرورت کی اشیاء بھی خریدنے سے قاصر ہیں،بچوں بڑوں،خواتین کے کپڑوں جوتوں اور دیگر اشیاء کے من مانے نرخ مقرر ہیں،جو انتظامی غفلت کا واضح ثبوت ہیں تاجروں نے پنڈی اور دوسرے شہروں کی نسبت دگنا قیمت وصول کرکے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے،اس حوالہ سے شہریوں نے ڈپٹی کمشنر سے آسمان سے چھونے والی قیمتوں کو قابو میں کرنے کے لئے سرکاری نرخ کے مطابق اشیاء کی فروخت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہیاور اس بات پر زور دیا ہے کہ چھوٹے اور بڑے گوشت کے نرخ کو سرکاری جاری ہونے والی ریٹ لسٹ میں روزانہ کی بنیاد پر شامل کیا جائے اور اس کے علاوہ دیگر ضرورت کی اشیاء کپڑوں جوتوں بچوں کی ضررورت کہ اشیاء کے نرخ بھی مقرر کرنے کے اقدامات اٹھائے جائیں،تاکہ غریب عوام بھی بچوں کی ضرورت پوری کرنے خواہش پر اطمینان حاصل کر سکیں اور مصنوعی مہنگائی سے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں کا احتساب ممکن ہو۔

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!