ہمارا فیس بک پیج

ایبٹ آباد:بھوکا چیتا آبادی میں گھس گیا۔ متعدد بکریاں چیرپھاڑ ڈالیں۔

ایبٹ آباد: گلیات میں جنگلی درندے انسانی زندگیوں کے ساتھ ساتھ پالتو جانوروں کیلئے سنگین خطرہ بن گئے۔ایبٹ آباد کی یونین کونسل باغ میں جنگلی چیتا گنجان آبادی میں گھس آیا لاکھوں روپے مالیت کے درجنوں پالتو جانوروں کو چیر پھاڑ ڈالا۔ایلیاں علاقہ بھی غیر محفوظ ہوگئے ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل ان علاقوں میں جنگلی چیتے نے پالتو جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کو اپنا شکار بنایا ہے مگر کے پی سرکار اور محکمہ جنگلی حیات نے کوئی نوٹس نہیں لیا جس باعث آئے روز ان واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔اہلیاں علاقہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سمیت دیگر ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کی روک تھام کیلئے ٹھوس اور جامعہ اقدامات اٹھائے جائیں انسانی جانوں اور لوگوں کے پالتو جانوروں کے تحفظ کیلئے فوری طور پر اقدامات اٹھائے جائیں اور ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا یا اہلیان علاقہ کو ان جنگلی درندوں کو مارنے کی اجازت دی جائے تاکہ لوگ اپنا تحفظ خود کرسکیں۔

جب کبھی لوگوں نے اپنے اور اپنے جانوروں کے تحفظ کیلئے ہتھیار اٹھائے تو محکمہ جنگلی حیات ان لوگوں کے خلاف وائلڈ لائف ایکٹ کے مختلف قسم کے مقدمات بنائے جس کی وجہ سے لوگوں کوقیدوبند اور بھاری جرمانوں کی سزائیں برداشت کرنا پڑیں۔ مگر لوگوں نیاس ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بھر پور آواز اٹھانے کا تہیہ کرلیا ہے جس امن و امان کے مسائل پیدا ہوں گے اور انتظامیہ کیلئے ان پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا اور محکمہ جنگلی حیات ایک طرف سائیڈ لائن ہو جانے گا۔مسائل اہلیاں علاقہ اور انتظامیہ اور پولیس کیلئے بنیں گے اس صوبائی حکومت اور محکمہ جنگلی حیات فوری طور پر اقدامات اٹھائے اور اس سلسلے انسانی زندگیوں اور پالتو جانوروں کے تحفظ کیلئے قانون سازی کرے جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین میں تبدیلی لائے۔

گزشتہ روز یونین کونسل باغ کے گاؤں لڑی میں خونخوار چیتا آبادی میں گھس آیا بابر عباسی نامی شخص کی کئی بکریاں مار ڈالیں ا۔نسانی جانوں کو بھی خطرہ اہلیان علاقہ کا حکومت سے محکمہ ولڈ لائف اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات روز مرہ کا معمول بن گئے ہیں ان روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!