ہمارا فیس بک پیج

اوگی دربند میں پانی کے ذخائر کے تیزی سے خاتمے اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

ایب آباد(نامہ نگار) اوگی دربند میں پانی کے ذخائر کے تیزی سے خاتمے اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ حکومت کی غیر سنجیدہ پالیسوں سے مستقبل قریب میں بڑا انسانی المیہ جنم لینے کا خدشہ،خیبر پختونخواہ مائنز اینڈ منرل کے ادھورے ایکٹ اور غیر قانونی مائننگ اور ماحول کی تباہی کیخلاف مقامی عمائدین نے آواز بلند کر دی، اوگی دربند کو مائننگ کلسٹر کا درجہ دینے کا بھی مطالبہ کردیا پانی کے ذخائر تباہ جنگلات ختم اور ماحول تباہ ہورہا ہے۔اس بات کا انکشاف یو ٹی پی سی کے قاضی محمد شعیب اور سابق امیدوار تحصیل کونسل دربند ذوالفقار خان نے ایبٹ آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اس موقع پر مزید کہا کہ خیبر پختونخواہ مائنز اینڈ منرل گورنس ایکٹ ادھورا ایکٹ ہے اسے معدنیاتی قانون سے کشید کیا گیا ہے اور کے آئین کے بعد اسکی ہمارے ملک میں گنجائش ختم۔ہو جاتی ہے اسکو منرل پالیسی کے ذریعے آئین کے ساتھ جوڑا گیا ہے منرل پالیسی نیشنل منرل پالیسی اور خیبر پختونخواہ کی دو ہزار چودہ کی منرل پالیسی میں ماحول کے تحفظ، مقامی علاقے اور آبادی کی فلاح وبہبود و ترقی کو تحفظ دیا گیا مگر ایکٹ جو کہ ہے بھی ادھورا مگر اس پر بھی آدھے سے زیادہ عمل نہیں کیا جارہا، سمال سکیل مائننگ کی دو ہزار چودہ کی منرل پالیسی میں حوصلہ شکنی کی گء ہے مگر اسکے باوجود سمال سکیل مائننگ پراسپیکٹیو لائسنس ہزاروں کی تعداد میں جاری کئیے جا چکے ہیں لارج سکیل مائننگ نام کی کوء چیز نظر نہیں آرہی نیشنل منرل پالیسی کے مطابق تین سو ملین سے زائد کی سرماء کاری کی صورت میں لارج سکیل مائننگ ہوگی اس سے کم نہیں جبکہ منرل ایکٹ میں بھی ایک ہزار مربع کلو میٹر سے زائد ایریا کی صورت میں لارج سکیل مائننگ ہوگی جبکہ زمینی حقائق دیکھے تو ہمیں ایسا کچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے ہونا یہ چائیے کہ جدید طریقے سے ذخائر کی نشاندھی کرکے باقی علاقے کو ختم کیا جائے، اسی طرح جوائنٹ وینچر اور سب لیٹ کو بھی مکس کردیا گیا ہے انکا مزید کہنا تھا کہ اوگی دربند میں اس وقت پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں ماحول تباہ ہور ہا ہے، اوگی دربند کو مائننگ کلسٹر کا درجہ دیا جائے پھر مائننگ کلسٹر والے علاقے میں پھر سہولیات بھی فراہم کی جائیں جن میں گرڈ اسٹیشن، پراسیسنگ یونٹس، سیفٹی، طبی مراکز اور سڑک شامل ہیں

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!