ہمارا فیس بک پیج

جرم ترک کرنے والے نوجوان کو دوبارہ جرم کرنے پر مجبور کردیا۔

ایبٹ آباد(وائس آف ہزارہ)پولیس میں چھپی کالی بھیڑوں نے جرم ترک کرنے والے نوجوان کو دوبارہ جرم کرنے پر مجبور کردیا۔سابق ڈی پی او ایبٹ آباد یاسر آفریدی کے تبادے کے بعد پولیس کے افسران کا منشیات فروشی کا دھندہ دوبارہ عروج پر پہنچ گیا اور نوجوانوں کی زندگی تباہ کرنے لگے نوجوان کی زندگیوں سے کھیلنے والے پولیس افسران کے خلاف کاروائی کون کرے گا۔

اس ضمن میں زرائع نے بتایا ہے کہ نملی میرا کے رہائشی نوجوان منشیات کا عادی تھا جس کی وجہ سے اس کے گھر والے بھی بہت پریشان تھے اس گھروالوں نے سابق ڈی پی او ایبٹ آباد سے ملے اور ساری کہانی بتائی کہ یہ بہت زیادہ نشہ کرتا ہے جس پر سابق ڈی پی او ایبٹ آباد یاسرخان آفریدی نے اس کا علاج کروایا جس کے بعد نوجوان نے منشیات جیسی لعنت سے بچانے کے لیے اپنے والد کے ساتھ کام کاج کرنا شروع کردیا۔سابق ڈی پی او ایبٹ آباد یاسر خان کے تبدیل ہوتے ہی ایبٹ آباد کے نامی گرامی پولیس کے افسران نے اس نوجوان سے رابطہ شروع کردیا اور اس کو اپنی منشیات فروخت کرنے اور دوبارہ چوری ڈکیتی کروانے کے لیئے دن رات ٹیلی فونز کرتے رہے۔

زرائع کے مطابق یاسر خان آفریدی کے دور میں ریکارڈ چوری کی ورداتیں ہوئی لیکن انکو نہیں پتہ چلا کہ ایبٹ آباد پولیس میں چھپی کالی بھیریں ہی چوروں اور منشیات فروشوں کے اصل سرغنہ تھے زرائع کے مطابق سابق ڈی پی او ایبٹ آباد یاسر خان آفریدی کے تبادلے کے بعد پولیس کے اعلی افسران کا منشیات کا دھندہ پھر عروج پر جا پہنچا۔پولیس کا کام کرنے والے ڈیلر اگر اب منشیات فروشی سے انکار کرتے ہیں تو پولیس ان نوجوانوں پر جھوٹے مقدمات درج کرکے ان کی زندگی خطرے میں ڈالتی ہے اگر پولیس کے اعلی افسران کی منشیات فروخت کرتے ہیں تو انکو اتنا کمشن نہیں ملتا جس سے انکا گھر چل سکے۔

زرائع کے مطابق ایبٹ آباد پولیس میں سابق ڈی پی او عباس مجید مروت کے دور میں بھی ایک پولیس کا سب انسپکٹر منشیات فروشی میں ملوث تھا جسکو اس ڈی پی او ایبٹ آباد نے فوری طور پر نوکری سے معطل کردیا گیا تھا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جیسے ہی ڈی پی او عباس مجید مروت جہاں سے تبدیل ہوئے تو ایبٹ آباد پولیس کے نامی گرامی سب انسپکٹر کو دوبارہ بحال کردیا گیا تھا۔

اگر ڈی آئی جی ہزارہ ان تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کے موبائل ڈیٹا چیک کریں تو 70 فیصید پولیس اہلکار منشیات فروشی اور چوری کے کیسز میں ملوث پائیں گئے۔چند روز قبل ایبٹ آباد میں آنے والے نوتعینات ڈی پی او اور ڈی آئی جی ہزارہ کے لیے پولیس میں چھپی کالی بھیڑیں جو نوجوانوں سے منشیات فروشی اور چوری کرواتے ہیں انکے لیے بڑا چیلنج بن گیا ہے شہریوں نے ڈی آئی جی ہزارہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!