ہمارا فیس بک پیج

بکوٹ نتھیاگلی روڈ سے برف ہٹانے والا ٹھیکیدار ایک کروڑ دس لاکھ ہڑپ کرکے رفوچکر۔

ایبٹ آباد:سرکل بکوٹ کی اہم ترین شاہراہ بکوٹ نتھیا گلی روڈ حالیہ برف باری کے بعد محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے مبینہ طور پر ایک کروڑ دس لاکھ کا ٹھیکہ برف صاف کرنے کے لیے ٹھیکیدار کو دیا جس کی مشینری کاغذوں محکمہ کے اہلکاروں اور ممبران اسمبلی نزیر عباسی مرتضی جاوید عباسی کے دفاتر اور انکے حواریوں کے گھروں میں تو شاید کئی کئی چکر لگا چکی ہو مگر شدید برف باری سے سرکل بکوٹ کے لاکھوں عوام کی اس روڈ پر دو دفعہ مشین آئی اور انتہائی خراب ترین حالات کرکے سڑک کو جوں کا توں برف کے انباروں میں چھوڑ دیا گیا اور اس پر سفر کرنا انتہائی خطرناک ھوگیا۔دوسری طرف  محکمہ گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور انتظامیہ کی نااہلی بدعنوانی بے حسی کی  وجہ سے لاکھوں افراد سیاحوں کے لیے انتہائی خطرناک مکمل طور پر نتھیا گلی سے بکوٹ تک تباہ منتخب عوامی قیادت کی پراسرار خاموشی سے قومی خزانے کو نقصان کے ساتھ انسانی زندگیوں کے ضیاء کا وزیراعظم عمران خان جنکا ویثرن ھے کہ کرپشن سے پاک ادارے اور گلیات کو سیاحوں کی جنت اور سہولیات کی فراہمی وہ اورحساس ادارے اس لوٹ مار پر عوام کی سن کر انکوائری کرکے عوام کو ریلیف دیں۔مقامی ممبر صوبائی اسمبلی نزیر عباسی جو پاکستان تحریک انصاف سے اور ممبر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی جو اپوزیشن کی نمائیندگی کررہے ہیں انکی عوامی مسائل پر عوام سے دوری اور اپوزیشن نہ کرنے پر عوام سخت پریشان۔ سرکل بکوٹ کے لاکھوں افراد اور گلیات سے آذادکشمیر کوہ مری براستہ کوہالہ بکوٹ نتھیا گلی روڈ جو خوبصورت گھنے جنگل سے گزرتی ھے تباہ حال ھے برف باری کے بعد اس سے برف صاف نہیں کی گی اور لینڈ سلائیڈ سے بھی تباہ ھے اس پر گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی جو بکوٹ کے چشموں کا پانی ایک معاہدہ کے تحت گڑنگ نالہ سے لیتی ھے اور گلیات بھر میں کمرشل استعمال ہوتا ھے انکا موقف ھے کہ یہ ایریا گورنر ہاؤس سے بکوٹ کوہالہ تک سی اینڈ ڈبلیو محکمہ کے پاس ھے جسکے ٹھیکیدار کو اس سال بھی ایک کروڑ چوبیس لاکھ کا ٹھیکہ برف صاف کرنے اور مرمت کا ملا مگر وہ کام نہیں کررہا۔

ترجمان گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق یا تو عوام اور اسکے نمائندوں میں صلاحیت نہیں یا محکمہ بااختیار ھے جو کام نہیں کررہا اور بدنامی گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ھورہی ھے دوسری طرف سی اینڈ ڈبلیو محکمہ کے ایکسین زاہدامین سے اس معاملے پر موقف لینے کے لیے کہا تو انکا موقف یہ ھے کہ اس سڑک کو ایس ڈی او وسیم اکبر دیکھ رہا ھے باقی تفصیلات دینے کے لیے انھوں نے کہا وہ بھی فراہم کروں گا۔ عوام علاقہ کو سمجھ نہیں آرہا کیا ہو رہا ہے عوام علاقہ اس اداروں کی چپقلش اور رسہ کشی منتخب عوامی قیادت اور اپوزیشن کی خاموشی  گھٹ جوڑ سے انتہائی مشکالات کا شکار ہیں۔اس ضمن میں عوام علاقہ کی رائے ھے کہ اس سڑک پر کھل کر سیاست کے ساتھ مال بناو سکیم شروع ھے اور بے لگام ہوکر لوٹ مار جاری ھے کئی سالوں سے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو محکمہ یا گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے فنڈز ٹھیکدار لیکر کدھر لگاتے ہیں اگر معمولی رقم بھی لگا کر اسکو مرمت کرتے تو حالات ایسے نہ ہوتے اور اب بھی ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے فنڈز سے اسکی ازسر نو تعمیر ہو یا کسی دوسری مد میں ٹھیکہ الائنمٹ اور خراب موڑ ٹھیک کرنے کے نام پر ایک اور لولی پوپ دے کر اس کو عوام سے مزید کئی سالوں تک دور کرنے کا منصوبہ ھے۔

ممبر صوبائی اسمبلی نزیر عباسی کا کہنا تھا کہ میں جلد اس سڑک کو ٹھیک کروانے کے لیے متبادل الائنمٹ دے کر کام شروع کرواوں گا جبکہ حالیہ برف باری کے بعد ٹھیکدار اور محکموں ناقص کارکردگی اور بدعنوانی پر خاموشی طاری ھے۔ممبر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی اس سوال پر کہ وہ اپوزیشن کا کردار ادا نہ کرکے حکومت کا ساتھ اور عوام دشمنی کررہے ہیں تو کہنا تھا کہ حکومت کو سونے دیں اور میں عوام میں آرہا ہوں فکر نہ کریں جبکہ دوسرے حکمران تحریک انصاف کے مرکزی رانماء علی اصغر خان جو اس حلقہ سے 90 ہزار ووٹ لیکر ہارے اور انکی اہلیہ بھی ممبر صوبائی اسمبلی ہیں ان سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ میں اور نزیر عباسی محکموں سے باز پرس کرکے بکوٹ روڈ پر آریے ہیں اور پھر نزیر عباسی اور محکمے کے اہلکار بکوٹ آئے بھی تو اسی روڈ سے جس پر اگر زندہ مریض کو ہسپتال لے جانے کیلئے ایک کلومیٹر سفر کروایا جائے تو وہ ہسپتال تو نہیں اللہ میاں کے پاس پہنچ جائے۔

نزیر احمد عباسی نے بھی محکمہ جات اور مقامی روایتی ڈرائنگ روم سیاست پالیسی پر عمل پیرا ہو کر عوام کی مشکالات بڑھا دی ہیں۔ان حالات میں عوام ہندکو کے اس محاورے کہ منج منج دی پہن ھوندی اے (بھینس بھینس کی بھن ہوتی ھے)کے مصداق سرکل بکوٹ میں مسجد کے امام ہوں۔صحافی ہوں۔نام نہاد سماجی ہوں مقامی سیاسی ہوں ممبران اسمبلی ہوں محکموں کے بدعنوان عناصر ہوں سب اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے منج والی مثال بن کر ایک پیج پر ہوتے ہیں اور عوام رو رو کر پھر انہی کے نعرے لگاتے ہیں۔عوام علاقہ کا مطالبہ ھے کہ بکوٹ نتھیا گلی روڈ پر جلد مرمت شروع کروا کر ریلیف دیا جائے مزید عوام کو ٹرک کے بتی کے پھیچے نہ لگایا جائے اور بدعنوان عناصر کے خلاف انکوائری کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!